احسان مند

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - کسی کے نیک سلوک کے بوجھ میں دبا ہوا، زیربار احسان۔ "پرانے یار تھے دونوں کا کچھ نہ کچھ احسان مند تھا۔"      ( ١٩٣٥ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٢٠، ٥:٤ ) ٢ - کسی نیک سلوک کا معترف، شکرگزار، ممنون۔  جو ٹک بھی سایہ گستر ہو گا تو اس خشک مزرع پر ہم بہت ہوں گے احسان مند اے ابر کرم تیرے      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٧٢٨ )

اشتقاق

عربی زبان کے لفظ 'اِحْسان' کے ساتھ فارسی زبان سے لاحقۂ فاعلی 'مَنْد' لگایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے 'قصۂ مہر افروز و دلبر" میں ١٧٤٦ء کو مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی کے نیک سلوک کے بوجھ میں دبا ہوا، زیربار احسان۔ "پرانے یار تھے دونوں کا کچھ نہ کچھ احسان مند تھا۔"      ( ١٩٣٥ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٢٠، ٥:٤ )